Home / News / یورپ اور دنیا کا سیکولر طبقہ ایردوان کے خلاف کیوں؟

یورپ اور دنیا کا سیکولر طبقہ ایردوان کے خلاف کیوں؟



گزشتہ دنوں پاکستانی سیکولر نمائندہ آن لائن ویب سائٹ تجزیات پر ایک تحریر پڑھی جس میں ایردوان ماڈل کو موضوع بنایا گیا تھا، کہا گیا یہ بظاہر آؤٹ لگ والا اسلام ہے، یعنی نظر تو آتا ہے لیکن اندر سے نہیں ہوتا۔ لہذا اس کی آڑ میں ہر قید و بند سے آزاد لبرل معاشرے کی تشکیل میں کوئی رکاوٹ نہیں رہتی۔ مزید لکھا گیا کہ ایردوان نے اس اسٹریٹیجی کو پوری تندہی سے استعمال کیا ہے اور خود کو امت مسلمہ کے لیڈر سے شروع کروا کر خلیفہ کے روپ میں پیش کر دیا ہے۔ جو مسلم دنیا کے حساس اور جذباتی مسائل پر جذباتی تقریر کرتا ہے لیکن عملی طور پر اسرائیل، امریکا اور یورپ کا سیاسی و عسکری حلیف ہے۔

اس سے ایک بات تو واضع ہوتی ہے کہ لکھنے والا تازہ ترین سطحی معلومات بھی نہیں رکھتا۔ اسرائیل، امریکا اور یورپ کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں جو تناؤ موجود ہے اب تو وہ کھل کر سامنے آ رہا ہے جس سے عام فرد بھی واقف ہے۔ گزشتہ ادوار میں اس میں کمی پیشی آتی رہی ہے لیکن ناکام بغاوت کے بعد یورپ اور امریکا کا جو ردعمل رہا اور بعد میں ترک صدارتی ریفرنڈم پر طرز عمل اختیار کیا گیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ایردوان اور اس کے وزراء کو ایک قانونی عمل سے روک گیا جس کے ذریعے وہ یورپ میں رہنے والے لاکھوں ترکوں سے ووٹ لینے کے لیے رابطہ کر سکتے تھے۔ امریکا کی طرف سے فتح اللہ گولن کی حوالگی پر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ اور استنبول کے سفارتی اہلکاروں سے ترک سیکیورٹی اداروں کی پوچھ گچھ پر امریکا تلملا کر رہ گیا اور ویزا سروس معطل کر دی۔ بات یہی تک نہیں بلکہ امریکا میں مقیم ترک بزنس مینوں کے خلاف فراڈ اور ایران پر عائد امریکی پابندیاں توڑنے کے الزام میں مقدمات کا درج ہونا اور ترک بنکوں پر بھاری جرمانے عائد کرنا بھی تناؤ۔ اس تناؤ کے چھوٹے چھوٹے مظاہر ہیں۔ ابھی چند دن پہلے ناٹو کی ناروے میں مشقوں کے دوران بانی ترکی مصطفیٰ کمال اتاترک اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کو دشمنوں کی لسٹ میں شامل کرنے کے واقعات بھی اسی کا تسلسل ہیں۔

آخر یورپ اور امریکا کو ترکی اور صدر ایردوان سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟ جیسا کہ ان کے اپنے سوچ بچار کرنے والے لوگ بتا رہے ہیں کہ ایردوان کا اسلام محض آؤٹ لک والا اسلام ہے، اس کے ہوتے ہوئے آزاد لبرل معاشرے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی تو اس کو راستے سے ہٹانے کی کوششیں کیوں کی جا رہی ہیں؟ بات اتنی سادہ نہیں جتنی بتائی جا رہی ہے اور بتانے والے سوچ سمجھ کر بول رہے ہیں کہ ایردوان کو روکنے کا اب ایک ہی راستہ ہے کہ اس کی مقبولیت پر حملہ آور ہوا جائے۔ عوام کو بتایا جائے کہ پچھلے سولہ سالوں میں ترکی میں جو کچھ بھی ہوا وہ محض آؤٹ لک اسلام ہے، اصل میں اسلام نہیں ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ آج کا ترکی، پندرہ سال پہلے کا ترکی نہیں رہا۔ نہ سماجی شعبے میں، نہ سیاسی میدان میں، نہ معیشت کے بازاروں ، نہ دفاعی قوت کے مورچوں اور نہ ہی اب وہاں اسلام مسجدوں اور خانقاہوں میں دبکا ہوا ملے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ سیکولرازم کے نام پر جو جابرانہ نظام وہاں ایک صدی تک لوگوں پر تھوپا گیا وہ وہاں کے مسائل حل کرنے میں ہی نہیں بہادر ترکوں کی روح سے اسلام کی قوت کو نکالنے میں ناکام رہا ہے۔ ترکی اپنے عظیم ماضی سے ولولہ اور جوش پا کر ایک زندہ طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے اور ساری دنیا کے مسلمان توجہ سے یہ منظر دیکھ رہے ہیں۔ صرف مسلمان ہی نہیں، ترکی اور مسلمان ملت کے دشمن بھی یہ منظر دیکھ رہے ہیں اور ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے ترکی آگے بڑھ رہا ہے ویسے ہی حساسیت اور ردعمل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن جو قومیں خدا پر پختہ یقین کر کے آگےبڑھتی ہیں انہیں روکا نہیں جا سکتا۔